دریائے نیل

Rizwan

Moderator
Staff member

FB_IMG_1715880944739.jpg
دریائے نیل
افریقہ میں دریا اور دنیا کا سب سے طویل دریا

دریائے نیل دنیا کا سب سے طویل دریا ہے جو براعظم افریقا میں واقع ہے۔ یہ دو دریاؤں نیل ابیض اور نیل ازرق سے مل کر تشکیل پاتا ہے۔ آخر الذکر ہی دریائے نیل کے بیشتر پانی اور زرخیز زمینوں کا سبب ہے لیکن طویل اول الذکر دریا ہے۔ نیل ابیض وسطی افریقا میں عظیم جھیلوں کے علاقے میں جنوبی روانڈا سے نکلتا ہے اور شمال کی جانب تنزانیہ، یوگینڈا اور جنوبی سوڈان سے گذرتا ہے، جبکہ نیل ازرق ایتھوپیا میں جھیل ٹانا سے شروع ہوتا ہوا جنوب مشرق کی سمت سفر کرتے ہوئے سوڈان سے گذرتا ہے۔ یہ دونوں دریا سوڈان کے دار الحکومت خرطوم کے قریب آپس میں ملتے ہیں۔

دریائے نیل کا شمالی حصہ سوڈان سے مصر تک مکمل طور پر صحرا سے گذرتا ہے۔ جنوبی مصر میں اس دریا پر مشہور اسوان بند تعمیر کیا گیا ہے، جو 1971ء میں مکمل ہوا۔ اس بند کے باعث ایک عظیم جھیل تشکیل پائی جو جھیل ناصر کہلاتی ہے۔ یہ جھیل مصر اور سوڈان کی سرحد پر واقع ہے تاہم 83 فیصد جھیل مصر میں واقع ہے، جبکہ 17 فیصد حصہ سوڈان میں ہے جہاں اسے جھیل نوبیا کہا جاتا ہے۔ جھیل ناصر 550 کلومیٹر طویل اور زیادہ سے زیادہ 35 کلومیٹر چوڑی ہے۔ اس کا کل رقبہ 5،250 مربع کلومیٹر ہے، جبکہ پانی کے ذخیرے کی گنجائش 157 مکعب میٹر ہے۔ مصر کی آبادی کی اکثریت اور تمام شہر اسی دریا کے کنارے آباد ہیں۔

مصر کا موجودہ دار الحکومت قاہرہ دریائے نیل کے کنارے ہے اور اس کے جزائر پر عین اس مقام پر واقع ہے جہاں دریا صحرائی علاقے سے نکل کر دو شاخوں میں تقسیم ہوکر ڈیلٹائی خطے میں داخل ہوتا ہے ۔

دریائے نیل 6،695 کلومیٹر (4،160 میل) کا سفر طے کرنے کے بعد اس ڈیلٹائی علاقے سے ہوتا ہوا بحیرہ روم میں گرتا ہے۔

قدیم مصر کے تمام آثار قدیمہ بھی دریائے نیل کے کناروں کے ساتھ ملتے ہیں کیونکہ 4 ہزار سال قبل مسیح میں صحرائے اعظم کی وسعت گیری اور خشک سالی کے باعث مقامی باشندے دریائے نیل کی جانب ہجرت کر گئے جو عظیم مصری تہذیب کا پیش خیمہ بنی۔

معاون دریا

دریائے نیل میں گرنے والے اہم معاون دریا نیل ابیض اور نیل ازرق ہیں جن میں سے نیل ابیض استوائی مشرقی افریقہ اور نیل ازرق ایتھوپیا سے نکلتا ہے۔ ایک اور کم اہمیت کا حامل دریا اتبارا بھی دریائے نیل میں گرتا ہے لیکن اس میں صرف اسی وقت پانی ہوتا ہے جب ایتھوپیا میں بارش ہو۔

عام طور پر جھیل وکٹوریہ کو نیل ابیض کا دہانہ مانا جاتا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نیل ابیض کا دہانہ روانڈا کے جنگلات میں ہے جس کے بعد یہ جھیل وکٹوریہ سے سفر کرتا ہوا یوگینڈا میں اس کا ساتھ چھوڑدیتا ہے۔ 500 کلومیٹر کے سفر کے بعد یہ جھیل کیوگا اور بعد ازاں جھیل البرٹ پہنچتا ہے جس کے بعد یہ سوڈان پہنچتا ہے۔ اس مقام پر یہ بحر الجبل (یعنی کوہستانی دریا) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بحرالغزال کے ملاپ کے بعد یہ دریا بحر الابیض یعنی سفید دریا کہلاتا ہے جسے دنیا نیل ابیض کے نام سے جانتی ہے۔

نیل ازرق ایتھوپیا کے پہاڑوں میں واقع جھیل ٹانا سے نکلتا ہے۔ یہ 1400 کلومیٹر کا سفر کرنے کے بعد سوڈان کے دار الحکومت خرطوم کے قریب نیل ابیض میں مل جاتا ہے اور دریائے نیل تشکیل دیتا ہے۔

حضرت عمر کا واقعہ

جب مصر فتح ہوا تو اہل مصر نے فاتح مصر حضرت عمرو بن عاص سے کہا کہ ہمارے ملک میں کاشتکاری کا دارومدار دریائے نیل پر ہے، ہمارے ہاں یہ دستور ہے کہ ہر سال ایک حسین وجمیل کنواری لڑکی دریا میں ڈالی جاتی ہے، اگر ایسا نہ کیا جائے تو دریا خشک ہو جاتا ہے اور قحط پڑ جاتا ہے۔ حضرت عمرو بن عاص نے انھیں اس رسم سے روک دیا۔ جب دریا سوکھنے لگا تو حضرت عمرو بن عاص نے یہ واقعہ خلیفہ وقت امیر المومنین حضرت عمر فاروق کو لکھ بھیجا۔ جواب میں حضرت عمر نے تحریر فرمایا کہ دین اسلام ایسی وحشیانہ وجاہلانہ رسموں کی اجازت نہیں دیتا اور آپ نے ایک خط دریائے نیل کے نام لکھ بھیجا اور اسے دریا میں ڈالنے کی ہدایت کی۔ اس خط کا مضمون یہ تھا:

بعد حمد وصلوۃ کے مطلب یہ ہے کہ اگر تو اپنی طرف سے اور اپنی مرضی سے چل رہا ہے تب تو خیر نہ چل اگر اللہ تعالیٰ واحد وقہار تجھے جاری رکھتا ہے تو ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہیں کہ وہ تجھے رواں کر دے۔

یہ پرچہ لے کر حضرت امیر عسکر نے دریائے نیل میں ڈال دیا۔ ابھی ایک رات بھی گذرنے نہیں پائی تھی جو دریائے نیل میں سولہ ہاتھ گہرا پانی چلنے لگا اور اسی وقت مصر کی خشک سالی تر سالی سے گرانی ارزانی سے بدل گئی۔۔

قرآن مجید میں دو دریاؤں کا ذکر آیا ہے جن میں دریائے نیل (سورہ انبیاء) اور دریائے فرات (سورہ فرقان) شامل ہیں۔

(ماخوذ ویکیپیڈیا سے)​
 
Back
Top