وہیل مچھلی کا پیشاب آبی مخلوق کیلئے اللہ کی باکمال

Rizwan

Moderator
Staff member
1000008673.jpg
وہیل مچھلی کا پیشاب آبی مخلوق کیلئے اللہ کی باکمال
کائناتی حکمت!

دنیا کی سب سے بڑی مخلوقات میں شمار ہونے والی وہیل مچھلی محض اپنی جسامت کے سبب حیرت کا باعث نہیں، بلکہ اس کے جسمانی افعال بھی کائناتی نظام کے ایک نہایت دقیق توازن کا مظہر ہیں۔
آج سائنس یہ تسلیم کرتی ہے کہ وہیل مچھلی کا پیشاب اور فضلہ، سمندر کے لئے کسی قدرتی نعمت سے کم نہیں — بلکہ یوں کہیے کہ "آبِ حیات" ہے!

تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک بڑی وہیل مچھلی روزانہ تقریباً 950 لیٹر پیشاب خارج کرتی ہے۔ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو یہ پیشاب صرف ایک فضلہ نہیں بلکہ سمندر کی زندگی کے لیے ایک قیمتی نامیاتی کھاد کا کردار ادا کرتا ہے۔
یہ پیشاب اور فضلہ سمندری پانی میں اہم منرلز، نائٹروجن، فاسفورس، اور آئرن مہیا کرتے ہیں، جو پانی میں موجود فائیٹوپلینکٹن (سمندری خوردنی پودے) کی افزائش کے لیے نہایت ضروری ہوتے ہیں۔

یہ فائیٹوپلینکٹن دراصل سمندر کی بنیاد ہیں۔ یہی وہ باریک خوردنی جاندار ہیں جو نہ صرف سمندری مخلوق کی خوراک بنتے ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے زمین کی فضا کو صاف کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق وہیل مچھلیاں ہر سال سمندر میں 46,000 ٹن بایو ماس اور 4,000 ٹن نائٹروجن تقسیم کرتی ہیں۔
ان کی موجودگی کی وجہ سے سمندر سالانہ 18,000 ٹن کاربن فضا سے جذب کرنے کے قابل ہوتا ہے۔

یعنی ایک مچھلی، جو خود نہ کچھ بولتی ہے، نہ زمین پر رہتی ہے، مگر اس کی روزمرہ کی جسمانی سرگرمیاں بھی ماحولیاتی توازن قائم رکھنے کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
یہ سب کیا محض حادثاتی ارتقاء کا نتیجہ ہو سکتا ہے؟
کیا اتنی زبردست باہمی ربط رکھنے والا نظام، جس میں پانی، فضا، نباتات، اور جانور سب ایک دوسرے سے جڑے ہوں — خود بخود بن سکتا ہے؟
یقیناً نہیں!

یہ سارا نظام کسی اعلیٰ عقل والے، حکمت والے اور مکمل طور پر قادر ہستی کی تخلیق ہے — اور وہ ہے اللہ تعالیٰ۔
قرآن مجید میں بھی اللہ کی تخلیق کردہ نشانیوں پر غور کرنے کی بارہا دعوت دی گئی ہے۔
وہیل مچھلی کی مثال ایسی ہی ایک نشانی ہے جو ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی کوئی مخلوق، چھوٹی ہو یا بڑی، بیکار یا بے فائدہ نہیں۔ یہاں ہر ذرے کو مقصد دیا گیا ہے۔

سبحان اللہ!
جب ایک مچھلی کا پیشاب بھی پوری زمین کے ماحول پر اثر انداز ہو سکتا ہے، تو سوچئے انسان کو کتنی ذمہ داری سے جینے کا حکم ملا ہوگا۔
آئیے، قدرت کے نظام میں اپنا کردار مثبت طریقے سے ادا کریں، اور اللہ کی تخلیق پر تدبر کر کے اپنی سوچ کو وسعت دیں۔
#urdu #story #viral #post #whale​
 
Back
Top